المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حسن الخلق باب: حسنِ اخلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2573
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي مَكِينٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُيِّرَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، أَيَّ أَزْوَاجِكِ تَخْتَارِينَ " ؟ قَالَتْ : أَخْتَارُ فُلَانًا ، الْمُتَوَفَّى عَنْهَا ، وَكَانَ أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا ، وَقَدْ كَانَ قُتِلَ عَنْهَا اثْنَانِ .ترجمہ
ابومجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو یہ اختیار دیا گیا کہ: ”تم اپنے شوہروں میں سے کس کا انتخاب کرنا پسند کرو گی؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں فلاں کا انتخاب کرتی ہوں“، یہ وہ شوہر تھے جن کا ان کے نکاح میں انتقال ہو گیا تھا، اور وہ اپنے اخلاق کے اعتبار سے ان تمام میں سب سے زیادہ بہترین تھے، جبکہ ان کے شوہروں میں سے دو (اللہ کی راہ میں) شہید ہوئے تھے۔“
یہ روایت مرسل ہے اور امام مسدد رحمہ اللہ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جس کی تخریج المطالب العالیہ میں کی گئی ہے۔