المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الإحسان إِلَى اليتيم باب: یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ فَائِدٍ الْعَبْدِيِّ أَبِي الْوَرْقَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ غُلَامٌ مَعَهُ أُخْتٌ لَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، غُلَامٌ يَتِيمٌ وَأُخْتٌ لَهُ يَتِيمَةٌ ، أَطْعِمْنَا مِمَّا أَطْعَمَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، أَعْطَاكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى تَرْضَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَحْسَنَ مَا قُلْتَ يَا غُلَامُ ، يَا بِلَالُ اذْهَبْ إِلَى أَهْلِنَا ، فَأْتِنَا بِمَا وَجَدْتَ عِنْدَهُمْ مِنْ طَعَامٍ " فَأَتَاهُ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِحْدَى وَعِشْرِينَ تَمْرَةً ، قَالَ : فَوَضَعَهَا فِي كَفِّهِ ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَدْعُو ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبْعًا لَكَ ، وَسَبْعًا لِأُمِّكَ ، وَسَبْعًا لِأُخْتِكَ ، تَغَدَّ بِتَمْرَةٍ وَتَعَشَّ بِتَمْرَةٍ " وَكَانَ الْغُلَامُ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ ، فَلَمَّا قَامَ ، تَبِعَهُ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَمَسَحَهُ ، وَقَالَ : جَبَرَ اللهُ يُتْمَكَ يَا غُلَامُ ، وَجَعَلَكَ خَلَفًا مِنْ أَبِيكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ رَأَيْتُكَ ، وَمَا صَنَعْتَ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، رَحْمَةً لَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يَضُمُّ رَجُلٌ يَتِيمًا ، فَيُحْسِنُ وِلَايَتَهُ ، ثُمَّ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ، إِلَّا كَتَبَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةً ، وَكَفَّرَ عَنْهُ بِكُلِّ شَعَرَةٍ سَيِّئَةً ، وَرَفَعَ لَهُ بِكُلِّ شَعَرَةٍ دَرَجَةً " .
2560 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَذَكَرَهُ .
2560 \ 3 - وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي الْمُسْنَدِ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ أَبِي ; لِأَنَّهُ لَمْ يَرْضَ حَدِيثَ فَائِدٍ ، وَكَانَ عِنْدَهُ مَتْرُوكً .سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک لڑکا آیا جس کے ساتھ اس کی بہن بھی تھی، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں ایک یتیم لڑکا ہوں اور یہ میری یتیم بہن ہے، اللہ عزوجل نے آپ کو جو کچھ عطا فرمایا ہے اس میں سے ہمیں بھی کھلایئے، «أَعْطَاكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى تَرْضَى» ”اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی جناب سے اتنا عطا فرمائے کہ آپ راضی ہو جائیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لڑکے! تم نے کتنی خوبصورت بات کہی ہے؛ اے بلال! میرے گھر والوں کے پاس جاؤ اور ان کے پاس جو بھی کھانا ملے وہ لے آؤ۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اکیس کھجوریں لے کر حاضر ہوئے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے وہ کھجوریں اپنی ہتھیلی میں رکھیں، پھر اپنے دستِ مبارک سے اپنے دہنِ اقدس کی طرف اشارہ فرمایا تو ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ دعا فرما رہے ہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”سات کھجوریں تمہارے لیے ہیں، سات تمہاری ماں کے لیے اور سات تمہاری بہن کے لیے؛ ایک کھجور دوپہر کے کھانے میں کھانا اور ایک رات کے کھانے میں۔“ وہ لڑکا مہاجرین کی اولاد میں سے تھا، چنانچہ جب وہ اٹھ کر جانے لگا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس کے پیچھے گئے، اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، اسے پیار سے پھیرا اور فرمایا: «جَبَرَ اللهُ يُتْمَكَ يَا غُلَامُ ، وَجَعَلَكَ خَلَفًا مِنْ أَبِيكَ» ”اے لڑکے! اللہ تعالیٰ تیری یتیمی کی تلافی فرمائے اور تجھے تیرے باپ کا بہترین جانشین بنائے۔“ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”میں نے تمہیں دیکھا ہے، تم نے یہ کیا کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس پر شفقت و رحم کھاتے ہوئے ایسا کیا ہے۔ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جو شخص بھی کسی یتیم کو اپنے ساتھ شامل کرے اور اس کی بہترین کفالت و نگرانی کرے، پھر شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے لیے ہر بال کے عوض ایک نیکی لکھ دیتا ہے، ہر بال کے بدلے ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور ہر بال کے بدلے ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے۔“
امام حارث نے یزید بن ہارون سے، انہوں نے فائد بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہوئے اسے ذکر کیا ہے۔
امام عبداللہ بن احمد نے مسند میں فرمایا ہے کہ میں نے اپنے والد کی کتاب میں پایا کہ یزید نے اس حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا، عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس کی تحدیث نہیں فرمائی کیونکہ وہ فائد کی حدیث سے مطمئن نہیں تھے اور وہ ان کے نزدیک متروک راوی تھا۔