المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ : ( جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ [فَصَلَّى] بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ كَأَنَّهُ يُرِيدُ ذَهَابَ الشَّفَقِ ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ بِغَلَسٍ حِينَ فَجَرَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مِنَ الْغَدِ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّهُ مِثْلَيْهِ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ) .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصِغَرِهِ ، فَإِنْ كَانَ الضَّمِيرُ فِي ( جَدِّهِ ) يَعُودُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ تَوَقَّفَ عَلَى سَمَاعِ أَبِي بَكْرٍ مِنْ عَمْرٍو .سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھائی، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو (ظہر کی) نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل (برابر) ہو گیا، پھر مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب آفتاب غروب ہوا، پھر اس کے بعد عشاء کی نماز اس وقت ادا فرمائی گویا آپ ﷺ شفق (سرخی) کے غائب ہونے کا ارادہ فرما رہے تھے، پھر فجر کی نماز غلس (تاریکی) میں اس وقت پڑھائی جب صبحِ صادق طلوع ہوئی۔ پھر جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام اگلے دن دوبارہ تشریف لائے اور نبی کریم ﷺ کو ظہر کی نماز پڑھائی، اور نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا تھا، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سایہ دو مثل (دو گنا) ہو گیا، پھر مغرب کی نماز (پہلے دن کی طرح) اسی ایک وقت میں پڑھائی جب سورج غروب ہوا، پھر عشاء کی نماز رات کا ایک خاصا حصہ گزر جانے کے بعد ادا فرمائی، اور پھر فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب خوب روشنی (اسفار) ہو گئی“۔
یہ سند حسن ہے، البتہ محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے بچپن کی وجہ سے نبی کریم ﷺ سے براہِ راست سماع نہیں کیا، چنانچہ اگر (متن میں موجود لفظ) ”جدہ“ (ان کے دادا) کی ضمیر ابوبکر کی طرف لوٹتی ہے تو اس روایت کی صحت ابوبکر کے (اپنے والد) عمرو سے سماع پر موقوف ہوگی۔