❮
❯
حدیث نمبر: 2537
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ حَبِيبٍ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصْبِحُ وَوَالِدَاهُ عَنْهُ رَاضِيَانِ ، إِلَّا كَانَ لَهُ بَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدٌ ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصْبِحُ وَوَالِدَاهُ عَلَيْهِ سَاخِطَانِ ، إِلَّا كَانَ لَهُ بَابَانِ مِنَ النَّارِ ، وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدٌ " .
2537 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ فَقَالَ : أُرَاهُ رَجُلًا ، يَا رَسُولَ اللهِ ، فَإِنْ ظَلَمَاهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنْ ظَلَمَاهُ ، وَإِنْ ظَلَمَاهُ ، وَإِنْ ظَلَمَاهُ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
إِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْقُوفًا .
2537 \ 3 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي رَجُلٌ حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ ، وَلَيْسَ مِنْ قَوْمِي أَحَدٌ إِلَّا قَدْ لَحِقَ بِالْأَمْصَارِ أَوْ بِالْجِهَادِ غَيْرُ وَالِدَيَّ ، أَوْ قَالَ : غَيْرُ أَهْلِي وَأَبَوَيَّ ، أَوْ قَالَ : أَبِي كَارِهٌ لِذَلِكَ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : " لَا يَكُونُ لِرَجُلٍ أَبَوَانِ فَيُصْبِحُ مُحْسِنًا إِلَّا فُتِحَ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَلَا يُمْسِي وَهُوَ مُحْسِنٌ إِلَّا فُتِحَ لَهُ بَابَانِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : قُلْتُ : مُحْسِنٌ إِلَيْهِمَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَأَصْبَحَ مُحْسِنًا فُتِحَ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، وَلَا يَسْخَطُ عَلَيْهِ أَحَدُهُمَا أَوْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا ، فَيَرْضَى اللهُ عَنْهُ حَتَّى يَرْضَى " ، قُلْتُ : وَإِنْ كَانَ لَهُ ظَالِمًا ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَ لَهُ ظَالِمًا " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان کی صبح اس حال میں ہو کہ اس کے والدین اس سے خوش اور راضی ہوں تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں، اور اگر (والدین میں سے) کوئی ایک (زندہ) ہو تو ایک دروازہ؛ اور جس مسلمان کی صبح اس حال میں ہو کہ اس کے والدین اس سے ناراض اور ناخوش ہوں تو اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھل جاتے ہیں، اور اگر کوئی ایک ہو تو ایک دروازہ۔“
امام ابویعلیٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا تب بھی جب وہ دونوں اس پر ظلم کریں؟ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: ”اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں، اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں، اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں“۔
ابویعلیٰ کی سند حسن ہے، اور یہ موقوفاً (صحابی کے قول کے طور پر) بھی مروی ہے۔
امام مسدد کی روایت کے مطابق سعد بن مسعود رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی: میں جہاد کا انتہائی شوقین ہوں، مگر میری قوم کے تمام لوگ دوسرے شہروں کی طرف یا جہاد کے لیے نکل چکے ہیں سوائے میرے والدین کے، (یا انہوں نے کہا: سوائے میرے اہل خانہ اور والدین کے)، یا یوں کہا کہ میرا باپ اس (میرے جانے) کو ناپسند کرتا ہے، تو انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: ”جس شخص کے والدین ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہوئے صبح کرے تو اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، اور اگر وہ شام کرے اور وہ نیک سلوک کرنے والا ہو تو اس کے لیے جنت کے دروازوں میں سے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں“۔ راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا: ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا؟ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں! اور اگر والدین میں سے کوئی ایک ہو اور وہ اس کے ساتھ بھلائی کرتے ہوئے صبح کرے تو اس کے لیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ اور جب تک ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے ناراض رہے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اس وقت تک راضی نہیں ہوگا جب تک وہ (والد یا والدہ) راضی نہ ہو جائے“۔ میں نے عرض کی: کیا تب بھی جب وہ اس پر ظلم کرنے والا ہو؟ انہوں نے فرمایا: ”اگرچہ وہ اس پر ظلم کرنے والا ہی کیوں نہ ہو“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2537
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْقُوفًا . »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 224، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2537 / 2، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20128، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 25916»