المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ النَّظَرِ فِي النجوم باب: ستاروں (کے ذریعے غیب کے احوال معلوم کرنے) میں غور و فکر کرنے سے روکنے اور اس پر زجر و توبیخ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2502
( 103 ) قَالَ : حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي الْفِتَنِ ، فِي قِصَّةِ أَهْلِ النَّهَرَوَانِ مِنَ الْخَوَارِجِ .
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : " مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو شخص کسی کاہن (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس آیا اور اس کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کی، تو یقیناً اس نے اس وحی و شریعت کے ساتھ کفر کیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔“
امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث، ان شاء اللہ تعالیٰ، فتنوں کے بیان میں خوارج یعنی اہل نہروان کے تذکرے میں آئے گی۔