❮
❯
حدیث نمبر: 2449
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ سَيْحَانَ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدُهُ فِي يَدِي ، فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ رَثِّ الْهَيْئَةِ ، فَقَالَ : " أَبُو فُلَانٍ ! مَا بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى " ؟ قَالَ : السَّقَمُ وَالضُّرُّ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يُذْهِبُ اللهُ عَنْكَ السَّقَمَ وَالضُّرَّ " ؟ قَالَ : لَا ، مَا يَسُرُّنِي بِهَا أَنِّي شَهِدْتُ مَعَكَ بَدْرًا وَأُحُدًا ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : " وَهَلْ يُدْرِكُ أَهْلُ بَدْرٍ وَأَهْلُ أُحُدٍ مَا يُدْرِكُ الْفَقِيرُ الْقَانِعُ " ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقُلْتُ : إِيَّايَ يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلِّمْنِي ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ : تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ الْآيَةَ ، فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَسُنَتْ حَالِي ، فَقَالَ : " مَهْيَمْ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَمْ أَزَلْ أَقُولُ الْكَلِمَاتِ الَّتِي عَلَّمْتَنِيهِنَّ " .
مُوسَى ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلا جبکہ میرا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھا، آپ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو نہایت شکستہ حال اور پریشان صورت تھا، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے فلاں! تمہیں اس حالت تک کس چیز نے پہنچایا جو میں دیکھ رہا ہوں؟“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! بیماری اور فقر و تنگی نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن کی برکت سے اللہ تعالیٰ تم سے یہ بیماری اور تنگی دور فرما دے؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں، مجھے یہ پسند نہیں کہ ان کلمات (کے ذریعے ملنے والی عافیت) کے بدلے میں آپ ﷺ کے ساتھ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں شریک ہوتا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (اس کی یہ بات سن کر) مسکرا دیے، پھر فرمایا: ”اور کیا اہل بدر اور اہل احد اس اجر و مرتبے کو پا سکتے ہیں جو ایک صابر و قناعت پسند فقیر پا لیتا ہے؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! (وہ کلمات) مجھے سکھا دیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! کہو: «تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ» ”میں نے اس ہمیشہ زندہ رہنے والی ہستی پر بھروسا کیا جسے موت نہیں آئے گی“، (اور یہ آیت پڑھو:) ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا﴾ ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے، اور نہ ہی وہ عاجز ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو، اور اس کی خوب بڑائی بیان کرو“ [سورة الإسراء: 111]۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر کچھ عرصے بعد رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میری حالت سنور چکی تھی، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ (خوشحالی) کیسی ہے؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں مسلسل وہی کلمات پڑھتا رہا جو آپ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے۔
اس حدیث کی سند میں موجود راوی موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2449
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: مُوسَى ضَعِيفٌ . »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6671»