المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيد— شکار کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حل أَكَلَ مَا أصيد بالقوس والكلب وغير ذَلِكَ باب: کمان، شکاری کتے اور ان کے علاوہ دیگر ذرائع سے کیے گئے شکار کے کھانے کی حلت و جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ : سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ الْمِعْرَاضِ يُصِيبُ بِعَرْضِهِ ؟ قَالَ : إِذَا أَصَبْتَ [بِعَرْضِهِ] فَمَا أَصَابَ فَكُلْ " .ترجمہ
ابراہیم بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امام عطاء رحمہ اللہ سے معراض (ایک ایسا تیر جو نوکیلا نہ ہو بلکہ اپنے چوڑے حصے سے ضرب لگائے) کے بارے میں پوچھا کہ جب وہ اپنے چوڑے حصے سے (شکار کو) لگے (اور اسے مار ڈالے)؟ تو انہوں نے فرمایا: ”جب تم اسے (شکار پر) اس کے چوڑے حصے سے مارو اور وہ اسے مار ڈالے تو اسے کھاؤ۔“