المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الْكُحْلِ باب: سرمہ لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2265
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ الله عَنْهُمَا قَالَ انْتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا فِي رَمَضَانَ فَخَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ الله عَنْهَا وَقَدْ كَحَّلَتْهُ وَمَلَأَتْ عَيْنَهُ كُحْلًا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ وَاهٍترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رمضان میں ہم نبی کریم ﷺ کے اپنے پاس تشریف لانے کا انتظار کر رہے تھے، تو آپ ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے تشریف لائے، انہوں نے آپ ﷺ کو سرمہ لگایا تھا اور آپ ﷺ کی آنکھ سرمے سے بھر دی تھی۔ (حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن خالد (اس کا راوی) سخت کمزور ہے۔