المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ خضاب شعر اللحية باب: داڑھی کے بالوں کو خضاب لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2261
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، يَذْكُرُ حَدِيثَ " الشَّيْبُ نُورٌ " . وَزَادَ : إِلَّا مَنْ خَضَبَهَا أَوْ نَتَفَهَا ، فَقُلْتُ لِشَهْرٍ : إِنَّهُمْ يُصَفِّرُونَ وَيَخْضِبُونَ بِالْحِنَّاءِ . قَالَ : أَجَلْ ، كَأَنَّهُ يَعْنِي السَّوَادَ .ترجمہ
امام طیالسی رحمۃ اللہ علیہ نے عبدالجلیل بن عطیہ سے، انہوں نے شہر بن حوشب سے اور انہوں نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ (یہ) حدیث بیان کرتے تھے: ”بڑھاپے کے سفید بال نور (روشنی اور عظمت کا باعث) ہیں، سوائے اس شخص کے جو انہیں (یعنی سفید بالوں کو) خضاب لگائے یا انہیں اکھاڑے۔“
پھر (راوی حدیث عبدالجلیل بن عطیہ نے) شہر بن حوشب سے پوچھا: ”لوگ تو (بالوں کو) زرد کرتے ہیں اور مہندی سے خضاب لگاتے ہیں (تو کیا اس پر بھی یہ حکم لاگو ہوگا کہ یہ نور نہیں رہتا؟)“ شہر بن حوشب نے جواب دیا: ”ہاں! گویا (اس ممانعت سے) مراد سیاہ خضاب ہے۔“