❮
❯
حدیث نمبر: 2232
وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، ثَنَا حُرَيْثٌ ، عَنْ مُدْرِكِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : إِنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لِيُبَايِعَهُ ، فَرَأَى يَدَهُ مُخَلَّقَةً ، فَكَفَّ يَدَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، إِنَّمَا كَفَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَنْكَ أَنَّهَا مُخَلَّقَةٌ ، فَغَسَلَ يَدَهُ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ .
2232 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، بِهِ .
ترجمہ

سیدنا مدرک بن عمارہ کے والد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ﷺ سے بیعت کریں، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کا ہاتھ خلوق (زعفران یا کوئی خوشبو) لگا ہوا دیکھا، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ (بیعت کے لیے) ان کے ہاتھ پر رکھنے سے روک لیا۔ تو ایک شخص نے ان سے کہا: ”تیری ماں تجھے روئے! نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ تم سے صرف اس وجہ سے روکا ہے کہ تمہارے ہاتھ پر خلوق لگی ہوئی ہے۔“ یہ سن کر انہوں نے اپنا ہاتھ دھویا، پھر دوبارہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے بیعت کر لی۔
ابن ابی شیبہ نے یہ حدیث ابن نمیر سے، انہوں نے حریث سے، انہوں نے مدرک بن عمارہ سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔ اور حارث نے کہا کہ ہمیں زکریا بن عدی نے، انہیں ابن نمیر نے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2232
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2232 / 2»