المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ الخلوق وإباحته للمتزوج باب: خلوق کی کراہت اور نئے شادی شدہ مرد کے لیے اس کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2229
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظِبْيَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ ، قَالَ : " سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : ذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَهُودِ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، فَأَبْصَرَ رَجُلًا مُتَخَلِّقًا فَقَبَضَ يَدَهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَعَلَّهُ عَرُوسٌ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِنْ ، اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ انْهَكْهُ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ انْهَكْهُ [ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ انْهِكْهُ] .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بنی قینقاع کے یہودیوں کی طرف گیا، تو آپ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جس نے زرد رنگ کی خوشبو (خلوق) لگا رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے (اس سے مصافحہ کرنے کے بجائے یا اسے منع کرنے کے لیے) اپنا ہاتھ روک لیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، شاید وہ دولہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خواہ وہ دولہا ہی ہو (تب بھی یہ جائز نہیں)، جاؤ اور اسے دھو (مِٹاؤ) اور پھر خوب ملو، پھر اسے دھو (مِٹاؤ) اور پھر خوب ملو۔
پھر اسے دھو اور پھر خوب ملو۔“