❮
❯
حدیث نمبر: 2192
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ الْحَمِيدِ بِالْكُوفَةِ فَكَانَ يَقْضِي بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ، فَأَنْكَرَ عَلَيْهِ ذَلِكَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، فَكَتَبَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَكَتَبَ أَنْ أَقْضِيَ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فَقَامَ شَيْخٌ مِنْ كُبَرَائِهِمْ فَقَالَ : شَهِدْتُ شُرَيْحًا يَقْضِي بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ .
ترجمہ

مسدد رحمہ اللہ سے یحییٰ، ابن عجلان اور ابو الزناد رحمہ اللہ کی سند سے مروی ہے کہ ابو الزناد فرماتے ہیں: ”میں کوفہ میں عبدالحمید کے ساتھ تھا اور وہ ایک گواہ کے ساتھ قسم دلوا کر فیصلہ کیا کرتے تھے، تو اہل کوفہ میں سے کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، چنانچہ عبدالحمید نے اس مسئلے کے متعلق امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ امیر المؤمنین نے انہیں لکھا کہ ”میں ایک گواہ کے ساتھ قسم دلوا کر فیصلہ کیا کروں“، پھر ان کے بڑے لوگوں میں سے ایک شیخ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ”میں نے شریح کو اسی مسجد میں ایک گواہ کے ساتھ قسم دلوا کر فیصلہ کرتے دیکھا ہے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب القضاء والشهادات / حدیث: 2192
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه موطأ مالك برقم: 2673، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 5970، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 20738، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 23454»