المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ الأقرأ فِي الإمرة عَلَى الأشرف والأسن باب: امارت میں معزز اور عمر رسیدہ شخص پر زیادہ قرآن پڑھنے والے کو مقدم کرنے کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ سَرِيَّةً فَاسْتَقْرَأَهُمْ ، فَقَرَأَ شَيْخٌ ، ثُمَّ قَرَأَ شَابٌّ فَاسْتَعْمَلَهُ ، فَقَالَ الشَّيْخُ : اسْتَعْمَلْتَهُ عَلَيَّ ، وَأَنَا أَكْبَرُ مِنْهُ سِنًّا ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ أَكْثَرُ مِنْكَ قُرْآنًا .سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ایک «سَرِیَّة» (لشکری مہم) روانہ فرمائی اور ان کی علمی استعداد جانچنے کے لیے ان سے قرآن سنا، پہلے ایک معمر شخص نے تلاوت کی، پھر ایک نوجوان نے قرأت کی تو آپ ﷺ نے اسی نوجوان کو ان کا امیر مقرر کر دیا، اس پر اس بزرگ نے عرض کیا: ”کیا آپ نے اسے مجھ پر امیر مقرر فرما دیا ہے حالانکہ میں عمر میں اس سے بڑا ہوں؟“ تو آپ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اسے تم سے زیادہ «قُرْآنِ کَرِیم» یاد ہے۔“
احمد بن منیع رَحِمَہُ اللہُ نے اسے اپنی «مُسْنَد» میں روایت کیا ہے۔