المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فدي الأسارى باب: قیدیوں کے فدیے اور ان کو رہا کروانے سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2082
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْنَا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَهُوَ فِي فُسْطَاطِهِ فَنَادَيْتُ : أَنَا فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ الْجَرْمِيُّ ، وَإِنَّ ابْنَ أُخْتٍ لَنَا عَانٍ فِي سَبْيِ فُلَانٍ ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ قَضِيَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ الْقَضِيَّةَ أَرْبَعٌ .
قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : هُمْ عُنَاةٌ ، أَيْ أَسْرَى كَانُوا أُسِرُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ .
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .ترجمہ
سیدنا کلیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ اپنے خیمے میں تشریف فرما تھے، تو میں نے آواز دی کہ میں فلاں بن فلاں جرمی ہوں، اور ہمارا ایک بھانجا فلاں گروہ کی قید میں ہے، اور میں نے ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ بھی پیش کیا ہے، اور ہم یہ تذکرہ کیا کرتے تھے کہ (ایسے) فیصلے چار ہیں۔“ ابنِ ادریس کہتے ہیں کہ ”عناۃ سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں زمانہ جاہلیت میں قید کیا گیا تھا۔“ یہ حدیث حسن ہے۔