❮
❯
حدیث نمبر: 206
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، عَنِ الْإِفْرِيقِيِّ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غُرَابٍ ، قَالَ : إِنَّ عَمَّةً لَهُ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ : إِنَّ إِحْدَانَا تَحِيضُ وَلَيْسَ لَهَا وَلِزَوْجِهَا إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ وَلِحَافٌ وَاحِدٌ ، فَكَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَتْ : " تَشُدُّ عَلَيْهَا إِزَارَهَا ، ثُمَّ تَنَامُ مَعَهُ ، وَلَهُ مَا فَوْقَ ذَلِكَ " .
ضَعِيفٌ .
ترجمہ

اس کے کفارے اور اس حالت میں جو کچھ حلال ہے اس کے بیان میں، عمارہ بن غراب کی پھوپھی سے مروی ہے کہ انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: ”ہم میں سے کسی کو حیض آ جائے اور اس کے اور اس کے شوہر کے پاس صرف ایک ہی بستر اور ایک ہی لحاف (اوڑھنے کی چادر) ہو، تو وہ کیا کرے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”وہ عورت اپنا تہبند مضبوطی سے باندھ لے، پھر وہ اپنے شوہر کے ساتھ سو جائے، اور شوہر کے لیے اس (تہبند سے ڈھکے ہوئے حصے) کے علاوہ باقی بدن سے فائدہ اٹھانا حلال ہے۔“
یہ روایت ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحيض / حدیث: 206
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: ضَعِيفٌ . »
«أخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 270، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1528، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 206، 1670، 2590»