❮
❯
حدیث نمبر: 2056
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، ثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي حُرَّةَ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِالسَّوَادِ ، قَالَ : اسْتَقْضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَكَتَبَ إِلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِعَشْرِ خِصَالٍ ، فَحَفِظْتُ سِتًّا وَنَسِيتُ أَرْبَعًا : لَا تُقْطِعَنَّ إِلَّا مَالَ كِسْرَى أَوْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، أَوْ مَنْ قُتِلَ فِي الْمَعْرَكَةِ ، أَوْ دُورَ الْبُرُدِ ، أَوْ مَوْضِعَ السُّجُونِ ، وَمَغِيضَ الْمَاءِ وَالْآجَامِ .
ترجمہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو (عراق کی زمینوں کی پیمائش و انتظام کا) قاضی مقرر فرمایا اور انہیں دس ہدایات پر مشتمل ایک مکتوب بھیجا، راوی کے والد (جو عراق کی زمینوں کے متعلق لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے) فرماتے ہیں کہ مجھے ان میں سے چھ باتیں یاد رہیں اور چار میں بھول گیا: ”تم (بطورِ سرکاری اراضی) صرف انہی زمینوں کو علیحدہ کرنا جو کسریٰ یا اس کے اہل خانہ کی ملکیت تھیں، یا ان لوگوں کی جو میدانِ جنگ میں مارے گئے تھے، یا جہاں ڈاک کی چوکیاں اور قید خانے بنے ہوئے تھے، اور جہاں پانی کے نکاس کی جگہیں یا گھنے جنگلات اور جھاڑیاں واقع تھیں۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2056
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد الحارث ضعيف جدًا، فيه عدّة علل »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»