❮
❯
حدیث نمبر: 2051
قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا صَلَّى صَلَاةً جَلَسَ لِلنَّاسِ لِمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ حَاجَةٌ قَامَ فَدَخَلَ . قَالَ : فَصَلَّى صَلَوَاتٍ لَا يَجْلِسُ لِلنَّاسِ فِيهِنَّ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : فَحَضَرْتُ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : يَا يَرْفَأُ ، أَبِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَكَاةٌ ؟ قَالَ : مَا بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ شَكْوَى ، فَجَلَسْتُ فَجَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَلَسَ فَخَرَجَ يَرْفَأُ ، فَقَالَ : قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ . فَدَخَلَا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَإِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ صُبَرٌ مِنْ مَالٍ ، عَلَى كُلِّ صُبْرَةٍ مِنْهَا كَتِفٌ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، فَوَجَدْتُكُمَا مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِهَا عَشِيرَةً ، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ ، فَاقْسِمَاهُ ، فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَرُدَّا . قَالَ : فَأَمَّا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَثَا ، وَأَمَّا أَنَا فَجَثَوْتُ عَلَى رُكْبَتَيَّ فَقُلْتُ : وَإِنْ كَانَ نُقْصَانًا رَدَدْتَ عَلَيْنَا ؟ فَقَالَ : شَنْشَنَةٌ مِنْ أَخْشَنَ ، يَعْنِي حَجَرًا مِنْ جَبَلٍ ، أَمَا كَانَ هَذَا عِنْدَ اللهِ إِذْ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى وَاللهِ لَقَدْ كَانَ هَذَا عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ ، وَلَوْ عَلَيْهِ فُتِحَ لَصَنَعَ فِيهِ غَيْرَ الَّذِي تَصْنَعُ . فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ : أَخْبِرْنِي صَنَعَ مَاذَا ؟ قُلْتُ : إِذًا لَأَكَلَ وَأَطْعَمَنَا . قَالَ : فَنَشَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلَاعُهُ ، ثُمَّ قَالَ : وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا لَا لِي وَلَا عَلَيَّ .
2051 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا .
( 90 ) وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي فَضْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَشْيَاءُ مِنْ هَذَا .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جب وہ نماز ادا کر لیتے تو لوگوں کی ضروریات سننے کے لیے ان کے پاس بیٹھتے، اور اگر کسی کو کوئی حاجت نہ ہوتی تو اٹھ کر تشریف لے جاتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے کئی نمازوں کے بعد لوگوں کے پاس بیٹھنا ترک کر دیا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ان کے دروازے پر حاضر ہوا اور دربان سے پوچھا: ”اے یرفأ! کیا امیر المؤمنین کسی بیماری یا تکلیف میں مبتلا ہیں؟“ اس نے جواب دیا کہ امیر المؤمنین کو کوئی تکلیف نہیں ہے۔ میں وہیں بیٹھ گیا، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے اور بیٹھ گئے، اتنے میں یرفأ باہر نکلا اور کہنے لگا: ”اے ابن عفان! اٹھئے، اے ابن عباس! آپ بھی آئیے۔“ جب وہ دونوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوئے تو دیکھا کہ ان کے سامنے مال کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور ہر ڈھیر پر اونٹ کے شانے کی ایک ہڈی (بطورِ علامت یا تختی) رکھی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اہل مدینہ پر نظر دوڑائی تو تم دونوں کو قبیلے اور رشتہ داروں کے اعتبار سے سب سے زیادہ پایا، لہٰذا یہ مال لے جاؤ اور اسے تقسیم کر دو، پھر جو بچ رہے وہ واپس کر دینا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تو اپنے لپ بھر لیے، مگر میں اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور عرض کیا: ”اور اگر اس میں کمی واقع ہو گئی تو کیا آپ ہمیں اس کی تلافی کر دیں گے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (ایک ضرب المثل کے طور پر) فرمایا: ”یہ تو بالکل اسی پہاڑ کا ایک پتھر ہے (یعنی تم اپنے والد کی طرح معاملہ فہم ہو)، کیا یہ سب مال اللہ کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب حضرت محمد ﷺ اور ان کے اصحاب سوکھے چمڑے کے ٹکڑے کھا کر گزارا کرتے تھے؟“ میں نے عرض کیا: ”کیوں نہیں، اللہ کی قسم! یہ سب اللہ عزوجل کے پاس اس وقت بھی موجود تھا جب حضرت محمد ﷺ باحیات تھے، اور اگر ان کے عہد میں یہ فتوحات ہو جاتیں تو وہ اس مال کے معاملے میں اس سے مختلف طرزِ عمل اختیار فرماتے جو آپ کر رہے ہیں۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور فرمایا: ”مجھے بتاؤ کہ وہ کیا کرتے؟“ میں نے عرض کیا: ”تب وہ خود بھی تناول فرماتے اور ہمیں بھی کھلاتے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قدر ہچکیاں لے کر روئے کہ ان کی پسلیاں (شدتِ گریہ سے) ایک دوسرے میں داخل ہونے لگیں، پھر فرمایا: ”میری تو یہ آرزو ہے کہ میں اس (خلافت کی ذمہ داری) سے برابر سرابر چھوٹ جاؤں، نہ یہ میرے حق میں ہو اور نہ مجھ پر کوئی بوجھ بنے۔“ امام ابن ابی عمر نے بھی سفیان کے واسطے سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور مصنف فرماتے ہیں کہ ان شاء اللہ تعالیٰ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کے بیان میں اس طرح کے مزید واقعات آگے آئیں گے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2051
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد حديث الباب صحيح، رجاله كلهم ثقات رجال الصحيح، عدا كليب بن شهاب والد عاصم، وهو ثقة كما سلف في ترجمته. »
«أخرجه مسند الحميدي برقم: 30، وأخرجه مسند البزار برقم: 209، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2051 / 2»