المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحيض— حیض کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ باب: استحاضہ (بیماری کے خون) والی عورت کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 204
وَحَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ثَنَا الْجَلْدُ بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لِتَنْظُرْ خَمْسًا ، سَبْعًا ، ثَمَانِيًا ، تِسْعًا ، عَشْرًا ، فَإِذَا مَضَتِ الْعَشْرُ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ " .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”وہ (عورت ایامِ حیض کی تعیین کے لیے) پانچ، سات، آٹھ، نو اور دس دن تک انتظار کرے، پھر جب دس دن کی مدت گزر جائے (اور خون نہ رکے) تو وہ مستحاضہ (یعنی استحاضہ کی مریضہ) کہلائے گی۔“
اس اثر کی سند میں جلد بن ایوب نامی راوی ضعیف ہے، امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم یہ اثر حیض کی اکثر مدت دس دن ہونے کے حوالے سے بعض فقہاء کے موقف کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے۔