المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السبق والرمي وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرمي باب: دوڑ کے مقابلے، تیر اندازی اور تیر اندازی کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2008
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ - يَعْنِي الْقَطَّانَ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ : لَا بَأْسَ بِرِهَانِ الْخَيْلِ إِذَا كَانَ فِيهَا فَرَسٌ لَيْسَ دُونَهَا ، إِنْ سَبَقَ كَانَ لَهُ السَّبَقُ ، وَإِنْ لَمْ يَسْبِقْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَيْءٌ .ترجمہ
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”گھوڑوں کی دوڑ میں شرط پر مبنی مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ ان کے درمیان ایک ایسا گھوڑا بھی شامل ہو جو قوت و رفتار میں دیگر گھوڑوں سے کم تر نہ ہو، پس اگر وہ سبقت لے جائے تو انعام کا حقدار ہو گا اور اگر وہ نہ جیت سکے تو اس پر (مالی طور پر) کچھ بھی لازم نہیں ہو گا۔“