المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ توديع الْمَنْزِلِ بركعتين وَمَا يُقَالُ عِنْدَ التودع باب: گھر سے رخصت ہوتے وقت دو رکعتیں ادا کرنے اور رخصتی کے وقت کہی جانے والی باتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1975
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ قُرَّةَ - أَوْ قُرَّةَ ، شَكَّ أَبُو بَكْرٍ - أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلَاثٌ مِنْ نَعِيمِ الدُّنْيَا ، وَإِنْ كَانَ لَا نَعِيمَ لَهَا : مَرْكَبٌ وَطِيءٌ ، وَالْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ ، وَالْمَنْزِلُ الْوَاسِعُ .ترجمہ
سیدنا ابنِ قرہ یا قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (اور راوی ابوبکر کو ان کے نام کے متعلق شک ہوا ہے) کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین چیزیں دنیا کی نعمتوں میں سے ہیں، اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی دائمی نعمت نہیں ہے: آرام دہ سواری، نیک و صالحہ بیوی، اور وسیع و کشادہ مکان۔“
ائمہ حدیث کے نزدیک اس فرمان کا مقصد ان اسبابِ راحت کی نشاندہی کرنا ہے جو انسانی زندگی کو خوشگوار بناتے ہیں، تاہم ان کی نسبت دنیا کی طرف کر کے ان کے عارضی ہونے کی حقیقت بھی واضح کر دی گئی ہے تاکہ انسان ان میں کھو کر آخرت سے غافل نہ ہو۔