❮
❯
حدیث نمبر: 1975
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ قُرَّةَ - أَوْ قُرَّةَ ، شَكَّ أَبُو بَكْرٍ - أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلَاثٌ مِنْ نَعِيمِ الدُّنْيَا ، وَإِنْ كَانَ لَا نَعِيمَ لَهَا : مَرْكَبٌ وَطِيءٌ ، وَالْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ ، وَالْمَنْزِلُ الْوَاسِعُ .
ترجمہ

سیدنا ابنِ قرہ یا قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (اور راوی ابوبکر کو ان کے نام کے متعلق شک ہوا ہے) کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین چیزیں دنیا کی نعمتوں میں سے ہیں، اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی دائمی نعمت نہیں ہے: آرام دہ سواری، نیک و صالحہ بیوی، اور وسیع و کشادہ مکان۔“
ائمہ حدیث کے نزدیک اس فرمان کا مقصد ان اسبابِ راحت کی نشاندہی کرنا ہے جو انسانی زندگی کو خوشگوار بناتے ہیں، تاہم ان کی نسبت دنیا کی طرف کر کے ان کے عارضی ہونے کی حقیقت بھی واضح کر دی گئی ہے تاکہ انسان ان میں کھو کر آخرت سے غافل نہ ہو۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1975
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد فيه انقطاع أو إرسال، ورجال كلهم ثقات، فإن كان من رواية زياد بن مخراق عن قرّة بن إياس، فالحديث بهذا السند منقطع؛ لأن زيادًا لم يدرك قرّة بن إياس قطعًا، وإن كان من رواية معاوية بن قرّة، وهذا الذي يظهر فهو مرسل؛ لأن معاوية بن قرة لم يدرك النبي صلى الله عليه وسلم؛ لأنّه وُلِدَ يوم الجمل »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»