المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَاءِ مِنَ الْمَاءِ باب: منی خارج ہونے سے غسل واجب ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ ، وَلَا بَأْسَ بِالدِّرْهَمِ وَالدِّرْهَمَيْنِ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”غسل کا وجوب (یعنی پانی کا استعمال) منی کے انزال (یعنی پانی نکلنے) ہی سے لازم آتا ہے، اور (کپڑے یا بدن پر لگی ہوئی نجاست کی) ایک یا دو درہم کی مقدار کے برابر ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔“
یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح اور مستند ہے؛ اس میں مذکور پہلا قاعدہ ”الماء من الماء“ (پانی پانی سے ہے) ابتدائے اسلام کے احکامات میں سے تھا جو بعد ازاں جماع کی صورت میں محض دخول سے (خواہ انزال نہ بھی ہو) منسوخ قرار پایا، جبکہ نجاست کی قلیل مقدار (درہم کے برابر) کی معافی کا مسئلہ فقہائے کرام کے ہاں تطہیر کے باب میں اہمیت کا حامل ہے۔