المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القصاص— قصاص کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القود فيمن قتل بحجر باب: اس شخص سے قصاص لینے کا بیان جس نے پتھر کے ذریعے قتل کیا ہو۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ مِرْدَاسٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا رَمَى رَجُلًا بِحَجَرٍ فَقَتَلَهُ ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقَادَهُ مِنْهُ .
مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ضَعِيفٌ .
وَرَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، أَخْبَرَنَا أَشْيَاخُنَا الَّذِينَ أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَذَكَرَهُ .
وَحَجَّاجٌ فِيهِ مَقَالٌ .
وَقَدْ تَابَعَهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ زِيَادٍ ، عَنْ مِرْدَاسِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ : رَمَى رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ أَخًا لَهُ فَقَتَلَهُ ، وَفَرَّ فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَادَ مِنْهُ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ السَّكَنِ فِي الصَّحَابَةِ ، وَذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بِهِ .
وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ .سیدنا مرداس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو پتھر مار کر قتل کر دیا، پس اسے نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس پر قصاص نافذ فرمایا۔
اس کی سند میں موجود محمد بن جابر ضعیف راوی ہے۔
اور حجاج بن ارطاہ نے بھی اسے زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے کہ ہمیں ہمارے ان شیوخ نے خبر دی جنہوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا، پھر انہوں نے اسی واقعے کا ذکر کیا۔
تاہم حجاج کی شخصیت میں بھی علمی کلام پایا جاتا ہے۔
البتہ ولید بن ابی ثور نے بھی زیاد کے واسطے سے مرداس بن عروہ سے روایت کرتے ہوئے حجاج کی متابعت کی ہے جس میں انہوں نے بیان کیا کہ قبیلے کے ایک شخص نے اپنے ہی ایک بھائی کو پتھر مار کر قتل کر دیا اور وہ بھاگ نکلا، پھر ہم نے اسے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پایا، چنانچہ ہم اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اس سے قصاص لیا۔
اسے ابن السکن نے ’کتاب الصحابہ‘ میں روایت کیا اور امام بخاری نے ’التاریخ‘ میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ محمد بن صباح نے ہمیں بتایا کہ ولید نے یہ حدیث بیان کی ہے۔
اور اس کی یہ سند جید یعنی عمدہ ہے۔