❮
❯
حدیث نمبر: 1862
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ ، قَالَ : إِنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ حَدَّثَهُ : أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَأَبُوهُ عَلَى أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : ثُمَّ غَدَوْا مِنَ الْغَدِ ، فَقَالُوا : نَرْكَبُ نَنْظُرُ وَنَعْتَبِرُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَرَكِبُوا جَمِيعًا فَإِذَا هُمْ بِدِيَارٍ قَفْرٍ قَدْ بَادَ أَهْلُهَا وَانْقَرَضُوا ، وَبَقِيَتْ خَاوِيَةً عَلَى عُرُوشِهَا ، فَقَالُوا : أَتَعْرِفُ هَذِهِ الدِّيَارَ ؟ قَالَ : مَا أَعْرَفَنِي بِهَا وَبِأَهْلِهَا ، هَؤُلَاءِ أَهْلُ دِيَارٍ أَهْلَكَهُمُ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ ، إِنَّ الْحَسَدَ يُطْفِئُ نُورَ الْحَسَنَاتِ ، وَالْبَغْيُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ ، وَالْعَيْنُ تَزْنِي وَكَذَا الْكَفُّ وَالْقَدَمُ وَالْيَدُ وَاللِّسَانُ ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ .
ترجمہ

سہل بن ابی امامہ بن سہل سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے والد سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، راوی نے مکمل واقعہ بیان کیا کہ پھر وہ اگلی صبح اٹھے اور مشورہ کیا کہ ہم سوار ہو کر چلتے ہیں تاکہ (علاقے کا) مشاہدہ کریں اور عبرت حاصل کریں، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہاں"، چنانچہ وہ سب سوار ہو کر روانہ ہوئے تو اچانک ان کا گزر چند اجاڑ بستیوں پر ہوا جن کے مکین ہلاک و برباد ہو چکے تھے اور وہ بستیاں ﴿خَاوِيَةً عَلَى عُرُوشِهَا﴾ (سورت البقرہ: 259) یعنی اپنی چھتوں کے بل گری پڑی تھیں، انہوں نے پوچھا: کیا آپ ان دیار کو جانتے ہیں؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں ان بستیوں اور ان کے مکینوں کو بخوبی جانتا ہوں، یہ ان لوگوں کے مکانات ہیں جنہیں باہمی سرکشی اور حسد نے تباہ کر ڈالا، بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے، اور سرکشی اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب، نیز آنکھ زنا کرتی ہے اور اسی طرح ہتھیلی، پاؤں، ہاتھ اور زبان بھی زنا کرتے ہیں، جبکہ انسان کی شرمگاہ اس فعل کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب“۔"

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1862
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث إسناده لين، من أجل سعيد بن عبد الرحمن، فإنه شبه المجهول، وتفرد بهذا الحديث، ولم يتابع عليه، ومثله لا يحتمل التفرد. »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 4904، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10546، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 2178، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3520»