❮
❯
حدیث نمبر: 1855
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَا الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : وَمَنْ نَكَحَ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا أَوْ رَجُلًا أَوْ صَبِيًّا ، حُشِرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَنْتَنُ مِنَ الْجِيفَةِ ، يَتَأَذَّى بِهِ النَّاسُ حَتَّى يَدْخُلَ جَهَنَّمَ ، وَأَحْبَطَ اللهُ أَجْرَهُ ، وَلَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ، وَيُدْخَلُ فِي تَابُوتٍ مِنْ نَارٍ ، وَتُسَلَّطُ عَلَيْهِ مَسَامِيرُ مِنْ حَدِيدٍ حَتَّى تُشْبَكَ تِلْكَ الْمَسَامِيرُ فِي جَوْفِهِ ، فَلَوْ وُضِعَ عِرْقٌ مِنْ عُرُوقِهِ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ أُمَّةٍ لَمَاتُوا جَمِيعًا ، وَهُوَ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
إِنَّ اللهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْمَحَارِمَ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللهِ تَعَالَى ، وَمِنْ غَيْرَتِهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ ، وَحَدَّ الْحُدُودَ ، وَمَنْ صَافَحَ امْرَأَةً حَرَامًا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةً يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، وَإِنْ فَاكَهَهَا حُبِسَ عَلَى كُلِّ كَلِمَةٍ كَلَّمَهَا فِي الدُّنْيَا أَلْفَ عَامٍ ، وَالْمَرْأَةُ إِذَا طَاوَعَتِ الرَّجُلَ فَالْتَزَمَهَا أَوْ قَبَّلَهَا أَوْ بَاشَرَهَا أَوْ فَاكَهَهَا أَوْ وَاقَعَهَا فَعَلَيْهَا مِنَ الْوِزْرِ مِثْلُ مَا عَلَى الرَّجُلِ ، فَإِنْ غَلَبَهَا الرَّجُلُ عَلَى نَفْسِهَا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ وَوِزْرُهَا .
وَمَنْ رَمَى مُحْصَنَاتٍ أَوْ مُحْصَنَةٍ حَبِطَ عَمَلُهُ وَجُلِدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ .
وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا سَقَاهُ اللهُ تَعَالَى مِنْ سُمِّ الْأَسَاوِدِ ، وَسُمِّ الْعَقَارِبِ شَرْبَةً يَتَسَاقَطُ لَحْمُ وَجْهِهِ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبَهَا ، فَإِذَا شَرِبَهَا تَفَسَّخَ لَحْمُهُ وَجِلْدُهُ كَالْجِيفَةِ ، يَتَأَذَّى بِهِ أَهْلُ الْجَمْعِ ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، أَلَا وَشَارِبُهَا وَعَاصِرُهَا وَمُعْتَصِرُهَا وَبَائِعُهَا وَمُبْتَاعُهَا وَحَامِلُهَا ، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ وَآكِلُ ثَمَنِهَا سَوَاءٌ فِي إِثْمِهَا وَعَارِهَا ، وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صِيَامٌ وَلَا حَجٌّ وَلَا عُمْرَةٌ حَتَّى يَتُوبَ ، فَإِنْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَتُوبَ مِنْهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ تَعَالَى أَنْ يَسْقِيَهُ بِكُلِّ جَرْعَةٍ شَرِبَهَا فِي الدُّنْيَا شَرْبَةً مِنْ صَدِيدِ جَهَنَّمَ ، أَلَا وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَمَنْ قَاوَدَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ حَرَامًا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ، وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ، وَمَنْ وَصَفَ امْرَأَةً لِرَجُلٍ فَذَكَرَ لَهُ جَمَالَهَا وَحُسْنَهَا حَتَّى افْتُتِنَ بِهَا فَأَصَابَ مِنْهَا حَاجَةً خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا مَغْضُوبًا عَلَيْهِ ، وَمَنْ غَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ غَضِبَتْ عَلَيْهِ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرَضُونَ السَّبْعُ ، وَكَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْوِزْرِ مِثْلُ الَّذِي أَصَابَهَا ، قُلْنَا : فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا ؟ قَالَ : قُبِلَ مِنْهُمَا ، وَلَا يُقْبَلُ مِنَ الَّذِي وَصَفَهَا ، وَمَنْ فَجَرَ بِامْرَأَةٍ ذَاتِ بَعْلٍ انْفَجَرَ مِنْ فَرْجِهَا وَادٍ مِنْ صَدِيدٍ مَسِيرَةَ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ، يَتَأَذَّى بِهِ أَهْلُ النَّارِ مِنْ نَتْنِ رِيحِهِ ، وَكَاَنَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ قَدَرَ عَلَى امْرَأَةٍ أَوْ جَارِيَةٍ حَرَامًا فَتَرَكَهَا لِلهِ عَزَّ وَجَلَّ مَخَافَةً مِنْهُ أَمَّنَهُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ ، وَحَرَّمَهُ عَلَى النَّارِ ، وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ، فَإِنْ وَاقَعَهَا حَرَامًا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَدْخَلَهُ النَّارَ .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ ، وَالْمُتَّهَمُ بِهِ : مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، اس میں یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور جس نے کسی عورت کے ساتھ غیر فطری مقام (پچھلی شرمگاہ) سے جماع کیا، یا کسی مرد یا لڑکے کے ساتھ بدفعلی کی، تو اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ مردار سے بھی زیادہ بدبودار ہوگا، یہاں تک کہ لوگ اس کی بو سے اذیت محسوس کریں گے اور وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا؛ اللہ تعالیٰ اس کے اعمال برباد کر دے گا اور اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں فرمائے گا، اسے آگ کے ایک تابوت میں ڈال دیا جائے گا اور اس پر لوہے کی ایسی کیلیں مسلط کر دی جائیں گی جو اس کے پیٹ میں پیوست ہو جائیں گی، اگر اس کی رگوں میں سے کوئی ایک رگ چار سو امتوں پر رکھ دی جائے تو وہ سب کے سب مر جائیں، اور وہ قیامت کے دن اہل جہنم میں سب سے سخت عذاب والا ہوگا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے محرمات کو حرام کیا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں، اسی غیرت کی وجہ سے اس نے بے حیائیوں کو حرام کیا اور حدود مقرر فرمائیں؛ اور جس نے کسی غیر محرم عورت سے (شہوت کے ساتھ) مصافحہ کیا، وہ قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوں گے پھر اسے دوزخ میں ڈالنے کا حکم ہوگا، اور اگر اس نے اس سے خوش طبعی و دل لگی کی تو دنیا میں کہے گئے ہر ایک کلمے کے بدلے اسے ایک ہزار سال تک قید رکھا جائے گا؛ اور عورت اگر مرد کا ساتھ دے اور وہ اسے گلے لگائے یا بوسہ دے یا مباشرت و دل لگی کرے یا جماع کرے تو اس پر بھی مرد جتنا ہی گناہ ہوگا، لیکن اگر مرد اس پر غالب آ جائے (زبردستی کرے) تو مرد پر اپنا اور اس عورت کا بھی بوجھ ہوگا۔ اور جس نے پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائی، اس کے اعمال ضائع ہو گئے اور اسے قیامت کے دن آگے اور پیچھے سے ستر ہزار کوڑے مارے جائیں گے پھر اسے جہنم بھیج دیا جائے گا۔ اور جس نے دنیا میں شراب پی، اللہ اسے کالے ناگوں اور بچھوؤں کا زہر پلائے گا، ایسا گھونٹ کہ پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت برتن میں گر جائے گا، پھر جب وہ اسے پی لے گا تو اس کا گوشت اور کھال مردار کی طرح پھٹ جائے گی جس سے تمام اہل محشر کو اذیت ہوگی پھر اسے آگ کا حکم ہوگا؛ آگاہ رہو! شراب پینے والا، اسے نچوڑنے والا، نچڑوانے والا، بیچنے والا، خریدنے والا، اٹھانے والا، جس کے پاس لے جائی جائے اور اس کی قیمت کھانے والا سب گناہ اور عار میں برابر ہیں، اس کا روزہ، حج اور عمرہ قبول نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ توبہ کرے، اگر وہ توبہ سے قبل مر گیا تو اللہ پر حق ہے کہ اسے دنیا میں پیے گئے ہر گھونٹ کے بدلے جہنم کی پیپ کا ایک گھونٹ پلائے، خبردار! ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ اور جس نے دو مردوں اور ایک عورت کے درمیان (بدکاری کی) دلالی کی، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی، اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے ﴿وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾ (سورۃ النساء: ۹۷) اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ اور جس نے کسی شخص کے سامنے کسی عورت کے حسن و جمال کا وصف بیان کیا یہاں تک کہ وہ فتنہ میں پڑ کر اس سے گناہ کر بیٹھا، تو وہ شخص اللہ کے غضب کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگا، اور جس پر اللہ غضب ناک ہو اس پر ساتوں آسمان و زمین غضب ناک ہوتے ہیں اور اس پر گناہ بھی گناہ کرنے والے کے برابر ہوگا؛ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر وہ دونوں توبہ و اصلاح کر لیں؟ فرمایا: ان دونوں کی توبہ قبول ہوگی مگر وصف بیان کرنے والے کی توبہ (اس معاملے میں) قبول نہ ہوگی۔ اور جس نے کسی شادی شدہ عورت سے زنا کیا، اس کی شرمگاہ سے پیپ کی ایک ایسی وادی بہے گی جو پانچ سو سال کی مسافت تک ہوگی جس کی بو سے دوزخی اذیت پائیں گے اور وہ قیامت کے دن سخت ترین عذاب پانے والوں میں سے ہوگا۔ اور جو کسی عورت یا لونڈی پر (حرام کاری کی) قدرت پانے کے باوجود محض اللہ عزوجل کے خوف سے اسے چھوڑ دے، اللہ اسے قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے امن عطا فرمائے گا، اس پر آگ حرام کر دے گا اور اسے جنت میں داخل کرے گا، لیکن اگر اس نے بدکاری کر لی تو اللہ اس پر جنت حرام کر کے اسے دوزخ رسید کر دے گا“
امام ابن الجوزی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے اور اس کی سند میں میسرہ بن عبد ربہ نامی راوی کذب کا متہم ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1855
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث موضوع كما قال ابن حجر وإسناده هالك ساقط، فيه ميسرة وضَّاع، وداود متّهم بالوضع، وفيه يزيد بن عمر لم أجد له ترجمة أصلًا. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»