❮
❯
حدیث نمبر: 1847
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ بِمَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ ، فَإِذَا إِمَامُهُمْ يَقْرَأُ بِقِرَاءَةِ مُسَيْلِمَةَ : وَالطَّاحِنَاتِ طَحْنًا وَالْعَاجِنَاتِ عَجْنًا وَالثَّارِدَاتِ ثَرْدًا فَاللَّاقِمَاتِ لَقْمًا ، فَبَعَثَ عَبْدُ اللهِ فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَإِذَا هُمْ سَبْعُونَ يَقْرَؤُونَ عَلَى قِرَاءَةِ مُسَيْلِمَةَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا نَحْنُ بِمُحْرِزِي الشَّيْطَانِ هَؤُلَاءِ ، رَحِّلُوهُمْ إِلَى الشَّامِ لَعَلَّ اللهَ تَعَالَى أَنْ يُفْنِيَهُمْ بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ . قُلْتُ : قِصَّةُ هَؤُلَاءِ رَوَاهَا أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ مِنْ رِوَايَةِ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مِمَّا هُنَا .
ترجمہ

قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص قبیلہ بنو حنیفہ کی مساجد میں سے کسی ایک مسجد کے پاس سے گزرا تو اس نے دیکھا کہ ان کا امام مسیلمہ کذاب کی خود ساختہ قرأت پڑھ رہا تھا: «وَالطَّاحِنَاتِ طَحْنًا وَالْعَاجِنَاتِ عَجْنًا وَالثَّارِدَاتِ ثَرْدًا فَاللَّاقِمَاتِ لَقْمًا» (قسم ہے ان کی جو خوب آٹا پیستی ہیں، پھر ان کی جو خوب گوندھتی ہیں، پھر ان کی جو عمدہ ثرید بناتی ہیں، اور پھر ان کی جو بڑے بڑے لقمے بناتی ہیں)۔ جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس سنگین معاملے کی خبر ہوئی تو انہوں نے ان لوگوں کو طلب فرمایا، معلوم ہوا کہ وہ کل ستر افراد تھے جو مسیلمہ کی اسی گمراہ کن قرأت کے پیروکار تھے؛ اس موقع پر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم ان شیطانی گروہ کو اپنے پاس ہرگز پناہ نہیں دیں گے، انہیں ملکِ شام کی طرف روانہ کر دو، قوی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دشمن کے نیزوں کے وار یا طاعون کی وبا کے ذریعے ہلاک فرما دے گا۔
میں (محقق) کہتا ہوں کہ ان لوگوں کا قصہ امام ابوداؤد اور دیگر ائمہ نے بھی حارثہ بن مضرب کی روایت سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نقل کیا ہے، مگر ان روایات میں اس مقام جیسی تفصیلی جزئیات موجود نہیں ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1847
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :والحديث رجال إسناده ثقات، غير أنه معلول بمخالفة الثقات؛ حيث رووه عن حارثة بن مضرّب عن ابن مسعود، وفيه أنه استتابهم، وفي حديث الباب أنه رحّلهم إلى الشام، وهذا مخالف لما هو معهود في الشرع من استتابه المرتد، ومثل ابن مسعود رضي الله عنه لا يجهل هذا الحكم، وهو من كبار علماء الصحابة. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 33412»