المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ كُلِّ مسكر حرام وتفسير الطلاء والخليط باب: ہر نشہ آور چیز کی حرمت اور طلاء و خلیط کی تشریح کا بیان۔
حدیث نمبر: 1817
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ وَأَبُو عُبَيْدٍ كِلَاهُمَا : عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ : خَطَبَنَا الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ الَّتِي حُرِّمَتْ بِالْمَدِينَةِ : خَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ .ترجمہ
صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے منبر پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ”آگاہ رہو! یقیناً وہ شراب جو مدینہ منورہ میں (حکمِ الٰہی سے) حرام کی گئی تھی، وہ گدر اور خشک کھجوروں کا آمیزہ ہے“۔