المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ حَدِّ الخمر باب: شراب نوشی کی حد کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : " جِيءَ بِابْنِ النُّعَيْمَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَرِبَ خَمْرًا ، فَأَمَرَ مَنْ فِي الْبَيْتِ فَقَامُوا إِلَيْهِ فَضَرَبُوهُ بِأَيْدِيهِمْ وَالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ .
هَذَا مُرْسَلٌ ، قُلْتُ : وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، فَزَادَ بَعْدَ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ : وَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ .ابنِ ابی مُلَیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا نعیمان کے صاحبزادے کو نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لایا گیا جبکہ انہوں نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے گھر میں موجود لوگوں کو (سزا دینے کا) حکم دیا، چنانچہ وہ ان کی طرف بڑھے اور انہیں اپنے ہاتھوں، کھجور کی شاخوں اور جوتوں سے مارا۔
یہ روایت مرسل ہے، تاہم میں (مرتب) عرض کرتا ہوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اسی طریق سے تخریج کیا ہے، مگر انہوں نے ابن ابی ملیکہ کے بعد سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کا اضافہ کیا ہے (جس سے یہ روایت متصل ہو گئی ہے) اور روایت کے آخر میں یہ الفاظ بھی زائد بیان کیے ہیں: ”اور میں خود بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے انہیں مارا تھا“۔