المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَمَّامِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَرِّي باب: حمام (عوامی غسل خانے) کے احکام اور برہنہ ہونے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ فَلَا يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَ " .
قَالَ : فَنَمَّيْتُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ ، فَكَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنْ سَلْ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ حَدِيثِهِ فَإِنَّهُ رَضِيٌّ ، فَسَأَلَهُ فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمَنَعَ النِّسَاءَ عَنِ الْحَمَّامِ .
صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ .سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر کامل یقین رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کا احترام و اکرام کرے، اور جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے، اور جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ زبان سے خیر کی بات کہے ورنہ خاموش رہے، اور تمہاری عورتوں میں سے جو بھی اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، وہ (عوامی) حمام میں ہرگز داخل نہ ہو۔“
راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دورِ خلافت میں ان تک پہنچائی، تو انہوں نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کو مکتوب روانہ کیا کہ وہ محمد بن ثابت سے ان کی بیان کردہ اس حدیث کے متعلق دریافت کریں کیونکہ وہ ایک پسندیدہ اور ثقہ راوی ہیں؛ چنانچہ انہوں نے ان سے پوچھا اور پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو جوابی خط لکھا، جس کے بعد انہوں نے عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا۔ اس حدیث کو امام ابنِ حبان اور امام حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔