المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جَوَازِ إمساك الْمَرْأَةِ الجميلة لِمَنْ يحبها وإن كان فِيهَا ريبة باب: اس خوبصورت عورت کو اپنے نکاح میں برقرار رکھنے کے جواز کا بیان جو (اپنے شوہر کو) محبوب ہو، اگرچہ اس کے حوالے سے کوئی شک و شبہ ہی کیوں نہ پایا جاتا ہو۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا فُرَاتُ بْنُ سَلْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَوْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَدْفَعُ يَدَ لَامِسٍ ؟ فَقَالَ : " طَلِّقْهَا " . قَالَ : إِنَّهَا امْرَأَةٌ جَمِيلَةٌ ، وَإِنِّي أُحِبُّهَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَمْتِعْ بِهَا ".سیدنا ابن زبیر (یا ابوزبیر) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میری بیوی کسی چھونے والے کا ہاتھ پیچھے نہیں ہٹاتی (یعنی وہ غیر مردوں کے ساتھ میل جول میں بیباک ہے)، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے طلاق دے دو۔“ اس شخص نے عرض کی کہ وہ نہایت خوبصورت عورت ہے اور میں اس سے بے حد محبت کرتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اسے اپنے پاس ہی رکھو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“
شارحینِ حدیث کے مطابق اس جملے کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ عورت حد درجہ سخی تھی اور کسی سوالی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی تھی، تاہم جمہور محدثین کے نزدیک اس سے مراد اجنبی مردوں کے حوالے سے اس کی نرم خوئی اور بے احتیاطی ہے؛ آپ ﷺ نے پہلے اسے غیرتِ ایمانی کے پیشِ نظر طلاق کا مشورہ دیا، مگر جب اس شخص نے اپنی شدید قلبی وابستگی اور اس کے بغیر صبر نہ کر پانے کا اظہار کیا تو آپ ﷺ نے اسے نکاح برقرار رکھنے کی رخصت عطا فرمائی تاکہ وہ شخص کسی بڑی معصیت یا فتنے میں مبتلا نہ ہو جائے۔