المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مِنْ تَرْكِ الإجابة لِغَيْرِ وليمة العرس باب: ولیمۂ عرس کے علاوہ دوسری دعوت قبول نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1656
وَحَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، ثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : خِتَانُ جَارِيَةٍ . فَقَامَ وَلَمْ يَأْكُلْ ، وَقَالَ : " هَذَا شَيْءٌ مَا دُعِينَا لَهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں کھانے کی ایک دعوت پر بلایا گیا، جب وہ وہاں تشریف لائے تو دریافت فرمایا: ”یہ کیسی تقریب ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ لڑکی کی ختنہ (کی خوشی میں دعوت) ہے، یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور کھانا تناول نہیں فرمایا، اور ارشاد فرمایا: ”یہ ایسا کام ہے جس کی دعوت ہمیں رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں کبھی نہیں دی گئی تھی۔“