❮
❯
حدیث نمبر: 1656
وَحَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، ثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : خِتَانُ جَارِيَةٍ . فَقَامَ وَلَمْ يَأْكُلْ ، وَقَالَ : " هَذَا شَيْءٌ مَا دُعِينَا لَهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں کھانے کی ایک دعوت پر بلایا گیا، جب وہ وہاں تشریف لائے تو دریافت فرمایا: ”یہ کیسی تقریب ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ لڑکی کی ختنہ (کی خوشی میں دعوت) ہے، یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور کھانا تناول نہیں فرمایا، اور ارشاد فرمایا: ”یہ ایسا کام ہے جس کی دعوت ہمیں رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں کبھی نہیں دی گئی تھی۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1656
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 18191، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1655، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 3033، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8382»