المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جَوَازِ كتمان بعض عيوب الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا تثبت الخيار باب: عورت کے ان بعض عیوب کو مخفی رکھنے کے جائز ہونے کا بیان جو (فسخِ نکاح کے لیے) حقِ خیار کو ثابت نہیں کرتے۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، نَبَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : إِنَّ لِي ابْنَةً وَأَدْتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَإِنِّي اسْتَخْرَجْتُهَا فَأَسْلَمَتْ فَأَصَابَتْ حَدًّا ، فَعَمَدَتْ إِلَى الشَّفْرَةِ فَذَبَحَتْ نَفْسَهَا ، فَأَدْرَكْتُهَا وَقَدْ قَطَعَتْ بَعْضَ أَوْدَاجِهَا ، فَدَاوَيْتُهَا فَبَرَأَتْ ، ثُمَّ إِنَّهَا نَسَكَتْ ، فَأَقْبَلَتْ عَلَى الْقُرْآنِ . وَإِنَّهَا تُخْطَبُ إِلَيَّ ، فَتَمْنَعُنِي مِنْ شَأْنِهَا الَّذِي كَانَ .
فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " تَعْمِدُ إِلَى سَتْرٍ سَتَرَهُ اللهُ تَعَالَى فَتَكْشِفُهُ ؟ لَئِنْ بَلَغَنِي أَنَّكَ ذَكَرْتَ مِنْ شَأْنِهَا شَيْئًا لَأَجْعَلَنَّكَ نَكَالًا لِأَهْلِ الْأَمْصَارِ ، بَلْ أَنْكِحْهَا نِكَاحَ الْعَفِيفَةِ الْمُسْلِمَةِ ".امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میری ایک بیٹی ہے جسے میں نے دورِ جاہلیت میں زندہ درگور کر دیا تھا، پھر میں نے اسے (قبر سے) زندہ نکال لیا، وہ اسلام لائی تو اس سے ایک ایسی خطا سرزد ہو گئی جس پر شرعی حد واجب ہوتی تھی، اس نے (شدتِ ندامت سے) چھری پکڑی اور خود کو ذبح کرنے کی کوشش کی، میں نے اسے اس حال میں پایا کہ وہ اپنی شہ رگ کا کچھ حصہ کاٹ چکی تھی، میں نے اس کا علاج کیا تو وہ صحت یاب ہو گئی، پھر اس نے توبہ و انابت کی راہ اختیار کی اور مکمل طور پر قرآنِ کریم کی طرف متوجہ ہو گئی، اب اسے نکاح کے پیغامات مل رہے ہیں لیکن اس کا ماضی مجھے (حقائق بتانے کے حوالے سے) تذبذب میں ڈال رہا ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: ”کیا تم اس پردے کو فاش کرنا چاہتے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے ڈھانپ دیا تھا؟ یاد رکھو! اگر مجھے یہ اطلاع ملی کہ تم نے اس کے ماضی کا کسی سے بھی تذکرہ کیا ہے تو میں تمہیں تمام شہروں کے باشندوں کے لیے نشانِ عبرت بنا دوں گا، بلکہ تم اس کا نکاح ایک پاک دامن اور باحیا مسلمان خاتون کی حیثیت سے کرو۔“