المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ خدمة البيت باب: عورت پر گھر کی خدمت کی ذمہ داری کا بیان۔
حدیث نمبر: 1650
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْنَ النِّسَاءُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِالْفَضْلِ فِي الْجِهَادِ ، فَهَلْ لَنَا مِنْ أَعْمَالِنَا شَيْءٌ نَبْلُغُ بِهِ فَضْلَ الْجِهَادِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، مِهْنَةُ إِحْدَاكُنَّ فِي بَيْتِهَا تَبْلُغُ بِهِ فَضْلَ الْجِهَادِ " .
1650 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا أَبُو رَجَاءٍ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بِهِ .
1650 \ 3 - وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَبَا أَبُو رَجَاءٍ بِهِ.ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خواتین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مرد تو جہاد میں شرکت کر کے فضیلت و برتری لے گئے، تو کیا ہمارے اعمال میں کوئی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے ہم جہاد کی فضیلت پا سکیں؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، تم میں سے کسی خاتون کا اپنے گھر کے کام کاج اور نظم و نسق سنبھالنا اسے جہاد کی فضیلت تک پہنچا دیتا ہے۔“
امام ابو یعلیٰ نے نصر بن علی کے واسطے سے اور اسحاق بن ابی اسرائیل نے بھی اپنی اسناد کے ساتھ اسی روایت کو ابو رجاء روح بن مسیب سے نقل کیا ہے۔