❮
❯
حدیث نمبر: 1650
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْنَ النِّسَاءُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِالْفَضْلِ فِي الْجِهَادِ ، فَهَلْ لَنَا مِنْ أَعْمَالِنَا شَيْءٌ نَبْلُغُ بِهِ فَضْلَ الْجِهَادِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، مِهْنَةُ إِحْدَاكُنَّ فِي بَيْتِهَا تَبْلُغُ بِهِ فَضْلَ الْجِهَادِ " .
1650 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا أَبُو رَجَاءٍ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بِهِ .
1650 \ 3 - وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَبَا أَبُو رَجَاءٍ بِهِ.
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خواتین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مرد تو جہاد میں شرکت کر کے فضیلت و برتری لے گئے، تو کیا ہمارے اعمال میں کوئی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے ہم جہاد کی فضیلت پا سکیں؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، تم میں سے کسی خاتون کا اپنے گھر کے کام کاج اور نظم و نسق سنبھالنا اسے جہاد کی فضیلت تک پہنچا دیتا ہے۔“
امام ابو یعلیٰ نے نصر بن علی کے واسطے سے اور اسحاق بن ابی اسرائیل نے بھی اپنی اسناد کے ساتھ اسی روایت کو ابو رجاء روح بن مسیب سے نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1650
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الإسناد فيه روح بن المسيب وهو ضعيف، وقد انفرد به. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2828»