المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ العزل باب: عزل (یعنی بوقتِ انزال عضوِ تناسل کو شرمگاہ سے باہر نکال لینے) کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَزْلِ ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى مَا يَلِيهِ ، فَوَلَّى الرَّجُلُ فَحَصَبَهُ ، وَقَالَ : أُفٍّ !
قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَا كُنَّا نَرَى بِهِ بَأْسًا .عبدالواحد البنانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عزل (مانع حمل کے لیے انزال باہر کرنے) کے متعلق سوال کیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے (ناگواری کے عالم میں) اپنے قریب زمین پر اپنا ہاتھ مارا، پھر جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے ایک چھوٹی کنکری ماری اور فرمایا: ”اف!“
راویِ حدیث عبد العزیز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس واقعے کا ذکر سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے (اس کے جواز کی وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: ”ہم اس عمل میں کوئی حرج یا برائی محسوس نہیں کرتے تھے۔“