المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِزَالَةِ النَّجَاسَاتِ باب: نجاستوں کو زائل کرنے کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ الْبَاهِلِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرُّبَيِّعِ ، أَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ، فَأَتَى عَلَى قَبْرَيْنِ يُعَذَّبُ صَاحِبَاهُمَا ، فَقَالَ : " مَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " بَلَى . أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَغْتَابُ النَّاسَ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ لَا يَتَأَدَّى مِنْ بَوْلِهِ " .
ثُمَّ أَخَذَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرِيدَةً رَطْبَةً أَوْ جَرِيدَتَيْنِ فَكَسَرَهُمَا ، ثُمَّ غَرَسَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ كِسْرَةٍ عَلَى قَبْرٍ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا دَامَتَا رَطْبَتَيْنِ ، أَوْ قَالَ : مَا لَمْ يَيْبَسَا " .
وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَمُسْلِمٌ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، صَحِيحٌ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھے کہ آپ ﷺ کا گزر دو ایسی قبروں پر ہوا جن کے مکینوں کو عذاب دیا جا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انہیں کسی ایسی بات پر عذاب نہیں دیا جا رہا جسے وہ (بچنے کے لحاظ سے) کوئی بڑی بات سمجھتے تھے،“ پھر آپ ﷺ نے (حقیقت واضح کرتے ہوئے) فرمایا: ”کیوں نہیں! (وہ گناہ بڑے ہی ہیں)؛ ان میں سے ایک تو لوگوں کی غیبت کیا کرتا تھا، جبکہ دوسرا اپنے پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے اور پاکیزگی اختیار کرنے میں احتیاط نہیں برتتا تھا۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے کھجور کی ایک تروتازہ شاخ لی یا دو شاخیں لیں اور انہیں توڑ دیا، پھر آپ ﷺ نے ان شاخوں کے ہر ٹکڑے کو ایک ایک قبر پر گاڑ دیا اور ارشاد فرمایا: ”یقیناً ان کے عذاب میں اس وقت تک تخفیف کی جائے گی جب تک یہ شاخیں تروتازہ رہیں گی،“ یا آپ ﷺ نے یہ الفاظ فرمائے: ”جب تک یہ خشک نہیں ہو جاتیں۔“ اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے مختلف سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔