❮
❯
حدیث نمبر: 1563
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو فَرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيُّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَلَقِيتُهُ وَكَلَّمْتُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، خَرَجْتُ مَعَ عَمٍّ لِي فِي سَفَرٍ ، فَأَدْرَكَهُ الْحَفَا ، فَقَالَ : أَعِرْنِي حِذَاءَكَ ، فَقُلْتُ : لَا أُعِيرُكَهَا أَوْ تُزَوِّجُنِي ابْنَتَكَ . فَقَالَ : قَدْ زَوَّجْتُكَ ابْنَتِي .
قَالَ : فَلَمَّا أَتَيْنَا أَهْلَنَا بَعَثَ إِلَيَّ حِذَائِي ، وَقَالَ : لَا امْرَأَةَ لَكَ عِنْدِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهَا ، لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا ".
ترجمہ

سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے ایک چچا کے ساتھ سفر پر نکلا تو (راستے میں) وہ پیدل چلنے کی مشقت سے تھک گئے اور ان کے پاؤں ننگے ہونے کے سبب دکھنے لگے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے اپنے جوتے ادھار دے دو، تو میں نے کہا کہ میں آپ کو یہ تب تک نہیں دوں گا جب تک آپ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے نہ کر دیں، جس پر انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بیٹی کا نکاح تم سے کر دیا، پھر جب ہم اپنے گھر والوں کے پاس واپس پہنچے تو انہوں نے میرے جوتے مجھے واپس بھجوا دیے اور کہا کہ تمہاری میرے پاس اب کوئی بیوی (نکاح) نہیں ہے“، تو اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس (عورت) کو رہنے دو، تمہارے لیے اس میں کوئی خیر و بھلائی نہیں ہے“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1563
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1476، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 12285، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 597»