المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرهن باب: رہن (یعنی کسی چیز کو بطورِ وثیقہ و ضمانت گروی رکھنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1499
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا يُوسُفُ - هُوَ السَّمْتِيُّ - ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ رَهَنَ أَرْضًا بِدَيْنٍ عَلَيْهِ ، فَإِنَّهُ يَقْضِي مِنْ ثَمَرِهَا بِمَا فَضَلَ عَنْ نَفَقَتِهَا ، فَيَقْضِي مِنْ ذَلِكَ دَيْنَهُ الَّذِي عَلَيْهِ بَعْدَ أَنْ يَحْسِبَ الَّذِي بَقِيَ لَهُ عِنْدَ عَمَلِهِ وَنَفَقَتِهِ بِالْعَدْلِ .ترجمہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اپنی کوئی زمین کسی قرض کے عوض رہن رکھی ہو، تو وہ اس کی پیداوار میں سے ان اخراجات کو نکال کر جو زائد ہو، اس سے اپنے ذمے واجب الادا قرض ادا کرے، اور وہ اس میں سے اپنا قرض اس وقت ادا کرے گا جب وہ اپنی محنت اور اخراجات کا عدل و انصاف کے ساتھ حساب لگا کر اپنا بچا ہوا حصہ متعین کر لے۔“