المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الهدية باب: ہدیہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1496
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَجُلًا كَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا ، وَكَانَ يُهْدِي لِرَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُكَّةَ مِنَ السَّمْنِ وَالْعُكَّةَ مِنَ الْعَسَلِ ، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهُ يَتَقَاضَاهُ جَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَعْطِ هَذَا ثَمَنَ مَتَاعِهِ ، فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَنْ يَبْتَسِمَ وَيَأْمُرَ بِهِ فَيُعْطَى .ترجمہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص تھے جن کا لقب ’حمار‘ پڑ گیا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گھی اور شہد کی کپی بطور ہدیہ پیش کیا کرتے تھے، پھر جب اس سامان کا اصل مالک (بیوپاری) ان سے قیمت کا تقاضا کرنے آتا تو وہ اسے ساتھ لے کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتے اور عرض گزار ہوتے: ”اے اللہ کے رسول! اسے اس کے سامان کی قیمت عطا فرما دیں“، تو رسول اللہ ﷺ (ان کے اس معصومانہ انداز پر) محض تبسم فرماتے اور اس کی ادائیگی کا حکم صادر فرماتے، چنانچہ اسے قیمت ادا کر دی جاتی۔“