المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الهدية باب: ہدیہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1492
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : مَنْ وَهَبَ هِبَةً لِصِلَةِ رَحِمٍ أَوْ عَلَى وَجْهِ الصَّدَقَةِ ، فَهِيَ جَائِزَةٌ ، وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً يَرَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ الثَّوَابَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا إِنْ يُرْضَ مِنْهَا .ترجمہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے صلہ رحمی کی خاطر یا بطورِ صدقہ کوئی ہبہ (عطیہ) کیا تو وہ نافذ ہے (یعنی اب اسے واپس نہیں لیا جا سکتا)، اور جس نے اس ارادے سے کوئی ہبہ کیا کہ اس کا مقصد (بدلے میں) صلہ یا فائدہ حاصل کرنا تھا تو وہ اپنی اس چیز کو واپس لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے اگر اسے اس کا پسندیدہ بدلہ نہ دیا جائے۔“