❮
❯
حدیث نمبر: 1423
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : تَرَاءَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَقَالَ لِي أَصْحَابُهُ : إِلَيْكَ يَا وَاثِلَةُ ، أَيْ : تَنَحَّ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : دَعُوهُ ، إِنَّمَا جَاءَ لِيَسْأَلَ قَالَ : فَدَنَوْتُ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ ، لِتُفْتِنَا عَنْ أَمْرٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ مِنْ بَعْدِكَ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَلْيُفْتِكَ نَفْسُكَ قَالَ : قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ ، قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ضَعْ يَدَكَ عَلَى فُؤَادِكَ ، فَإِنَّ الْقَلْبَ يَسْكُنُ لِلْحَلَالِ وَلَا يَسْكُنُ لِلْحَرَامِ ، وَإِنَّ وَرَعَ الْمُسْلِمِ يَدَعُ الصَّغِيرَ مَخَافَةَ أَنْ يَقَعَ فِي الْكَبِيرِ ، قُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي ، فَمَنِ الْحَرِيصُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الَّذِي يَطْلُبُ الْمَكْسَبَةَ مِنْ غَيْرِ حِلِّهَا ، قُلْتُ : فَمَنِ الْوَرِعُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الَّذِي يَقِفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ ، قُلْتُ : فَمَنِ الْمُؤْمِنُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ ، قُلْتُ : فَمَنِ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، قُلْتُ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ .
ترجمہ

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے مسجدِ خیف میں نبی کریم ﷺ کے سامنے آنے کی کوشش کی تو آپ ﷺ کے صحابہ نے مجھ سے کہا: اے واثلہ! پرے ہو جاؤ، یعنی رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے ہٹ جاؤ، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے رہنے دو، یہ تو محض کچھ دریافت کرنے آیا ہے“۔ واثلہ کہتے ہیں: پس میں قریب ہوا اور عرض گزار ہوا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیا آپ ہمیں کسی ایسے امر کے بارے میں فتویٰ دیں گے جسے ہم آپ کے بعد آپ کی نسبت سے اختیار کریں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا نفس ہی تمہیں فتویٰ دے دے گا“۔ میں نے عرض کی: یہ میرے لیے کیسے ممکن ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور وہ اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، اگرچہ تمہیں فتویٰ دینے والے فتویٰ دیتے رہیں“۔ میں نے عرض کی: یہ میرے لیے کیسے ہوگا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھو، کیونکہ دل حلال پر مطمئن ہو جاتا ہے اور حرام پر اسے سکون نہیں ملتا، اور مسلمان کا تقویٰ یہ ہے کہ وہ بڑے گناہ میں پڑ جانے کے ڈر سے چھوٹی (مشتبہ) چیز کو بھی چھوڑ دیتا ہے“۔ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان، حریص کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو غیر شرعی طریقے سے کمائی طلب کرے“۔ میں نے عرض کی: تو پھر پرہیزگار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو شبہ کے مقام پر رک جائے“۔ میں نے عرض کی: تو مومن کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جس سے لوگ اپنے خون (جانوں) کے معاملے میں مامون و بے خوف ہو جائیں“۔ میں نے عرض کی: تو مسلم کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں“۔ میں نے عرض کی: تو سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا“۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1423
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 18115، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 360»