❮
❯
حدیث نمبر: 1413
قَالَ إِسْحَاقُ : 1413 أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنِ ابْنِ جُعْدُبَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَاهَا جُذَاذَ أَرْبَعِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ ، وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ بِخَيْبَرَ ، فَأَتَاهَا عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ ، فَقَالَ لَهَا : إِنْ شِئْتِ وَفَّيْتُهَا هَاهُنَا ، وَأَتَوَفَّاهَا مِنْكِ بِخَيْبَرَ ، فَقَالَتْ : حَتَّى أَسْأَلَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَكَرِهَهُ ، وَقَالَ : كَيْفَ بِالضَّمَانِ .
قَالَ وَكِيعٌ : هَذِهِ السُّفْتَجَةُ ، وَهِيَ مَكْرُوهَةٌ فِي قَوْلِ عُمَرَ .
ترجمہ

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں خیبر (کی پیداوار) سے چالیس وسق کھجوروں اور بیس وسق جو کی کٹی ہوئی مقدار عطا فرمائی، پھر ان کے پاس عاصم بن عدی آئے اور ان سے کہا: ”اگر آپ چاہیں تو میں (اس کی اتنی ہی مقدار) آپ کو یہیں پورا ادا کر دیتا ہوں اور خیبر میں آپ کے حصے سے وصول کر لوں گا“، انہوں نے کہا: (رکیے) یہاں تک کہ میں امیر المومنین سے پوچھ لوں، چنانچہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے اسے ناپسند فرمایا اور کہا: ”اس میں ضمانت (اور خطرے کی ذمہ داری) کا کیا بنے گا؟“۔ وکیع نے کہا: ”یہ سفتجہ (ہنڈی یا قرض کی منتقلی) ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق یہ مکروہ ہے“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1413
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :وكيع هو ابن الجراح إمام ثقة، وأبو العميس هو عتبة بن عبد الله بن عتبة بن عبد الله بن مسعود ثقة، وعبيد ثقة، وزينب صحابية، وابن جعدية يحتمل رجلين: الأول: يزيد بن عياض بن جعدبة، ورجحه يحيى بن معين كما في التاريخ برقم (157... »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 8»