المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا نهى عَنْهُ مِنْ البيوع باب: ان خرید و فروخت کی صورتوں کا بیان جن سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 1398
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَاهُ عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ ، وَعَنْ شَرْطٍ وَبَيْعٍ ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ بَيْنَ عَطَاءٍ وَعَتَّابٍ ، مَعَ ضَعْفِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ .ترجمہ
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں (گورنر بنا کر) روانہ کیا تو آپ ﷺ نے انہیں بیع کے ساتھ قرض (کی شرط) ملانے، بیع کے ساتھ (کسی اور ناجائز) شرط کے لگانے، اور اس چیز کی فروخت سے منع فرمایا جو تمہارے پاس (ملکیت یا قبضے میں) موجود نہ ہو“، یہ روایت عطا اور عتاب کے مابین منقطع ہے، نیز اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم کا ضعف بھی پایا جاتا ہے۔