المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جزاء الصيد وتحريمه عَلَى الْمُحْرِمِ باب: شکار کی جزا اور محرم پر اس کی حرمت کا بیان۔
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ : إِنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي بَيْضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ : تَحْمِلُ الْفَحْلَ عَلَى إِبِلِكَ ، فَإِذَا تَبَيَّنَ لَكَ لِقَاحُهَا سَمَّيْتَ عَدَدَ مَا أَصَبْتَ مِنَ الْبَيْضِ ، فَقُلْتُ : هَذَا هَدْيٌ لَيْسَ عَلَيْكَ ضَمَانُهَا ، فَمَا صَلَحَ مِنْ ذَلِكَ صَلَحَ ، وَمَا فَسَدَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ ، كَالْبَيْضِ : مِنْهُ مَا يَصْلُحُ ، وَمِنْهُ مَا يَفْسُدُ . قَالَ : فَعَجِبَ مُعَاوِيَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مِنْ قَضَاءِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : فَلَمْ يُعْجِبْ مُعَاوِيَةَ مَا هُوَ ، إِلَّا مَا يُبَاعُ بِهِ الْبَيْضُ فِي السُّوقِ وَيُتَصَدَّقُ بِهِ .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ سیدنا عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس محرم (حالتِ احرام والے شخص) کے بارے میں جس سے شتر مرغ کے انڈے ٹوٹ جائیں، یہ فیصلہ صادر فرمایا: ”تم اپنی اونٹنیوں پر نر اونٹ چھوڑو، پھر جب ان کا حمل ظاہر ہو جائے تو جتنے انڈے تم سے ضائع ہوئے ہیں اتنی ہی تعداد میں (پیدا ہونے والے بچوں کو) نامزد کر کے کہہ دو کہ یہ 'ہدی' (قربانی کے جانور) ہیں، ان کی سلامتی کی ضمانت تمہارے ذمے نہیں ہے، چنانچہ ان میں سے جو تندرست پیدا ہوں وہ کفارہ بن جائیں گے اور جو ضائع ہو جائیں ان کا تم پر کوئی وبال نہیں، کیونکہ یہ معاملہ انڈوں ہی کی مانند ہے کہ ان میں سے کچھ کارآمد ثابت ہوتے ہیں اور کچھ خراب ہو جاتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس بصیرت افروز فیصلے پر تعجب کا اظہار کیا تو اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس اجتہاد کے بجائے صرف وہی طریقہ پسند ہے جس میں ان انڈوں کی بازاری قیمت کے برابر رقم صدقہ کر دی جاتی ہے۔“