المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الهدي باب: ہدی کا بیان۔
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ ، فَيَأْمُرُ الَّذِي يَبْعَثُهُ مَعَهُ إِنْ عَطِبَ مِنْهُ شَيْءٌ أَنْ يَنْحَرَهُ ، وَيَصْبُغَ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ ، ثُمَّ يَضْرِبَ بِهِ صَفْحَتَهُ ، وَلْيَأْكُلْهُ مَنْ بَعْدَكَ ، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ أَنْتَ شَيْئًا ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ . قَالَ : وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .سیدنا حمید بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ (حرم کی طرف) ہدی کے جانور روانہ فرمایا کرتے تھے اور آپ ﷺ اس شخص کو جس کے ہاتھ وہ جانور بھیجتے، یہ ہدایت فرماتے کہ ”اگر ان میں سے کوئی جانور (ہلاکت کے قریب ہو کر) نڈھال ہو جائے تو اسے ذبح کر دینا، پھر اس کے جوتے (جو نشانی کے طور پر گردن میں لٹکایا گیا ہو) کو اس کے خون میں رنگنا اور اس کے ذریعے اس کی گردن کی ایک جانب پر نشان لگا دینا (تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ ہدی کا جانور ہے)، اور تمہارے پیچھے آنے والے مسافر اسے کھا لیں، لیکن تم خود اس میں سے کچھ نہ کھانا اور نہ ہی تمہارے قافلے کا کوئی ساتھی اس میں سے کچھ کھائے۔“
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی ہدی کے جانوروں کے معاملے میں اسی نبوی ہدایت کے مطابق عمل کیا کرتے تھے۔