المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الطَّوَافِ لِلرَّاكِبِ باب: سواری پر طواف کرنے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ تَطُوفَ رَاكِبَةً فِي خِدْرِهَا مِنْ وَرَاءِ الْمُصَلِّينَ فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ . فَقُلْتُ : أَلَيْلًا أَوْ نَهَارًا ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، قُلْتُ : فِي أَيِّ سَبْعٍ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي .
قُلْتُ : هَذَا مُرْسَلٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
وَأَصْلُهُ مَوْصُولٌ عِنْدَ الشَّيْخَيْنِ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ رِوَايَةِ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ أَنَّهَا صَلَاةُ الصُّبْحِ ، وَأَنَّهُ طَوَافُ الْوَدَاعِ .حضرت عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی زوجہ محترمہ کو حکم دیا کہ ”وہ ہودج میں سوار ہو کر مسجد کے اندر ہی نمازیوں کے پیچھے سے طواف کریں“۔ (ابن جریج کہتے ہیں کہ) میں نے پوچھا: کیا یہ رات کا وقت تھا یا دن کا؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے معلوم نہیں۔ میں نے پھر پوچھا: (طواف کے) کونسے سات چکروں میں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نہیں جانتا۔
میں کہتا ہوں کہ یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے رجال صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں، اور اس حدیث کی اصل بنیاد امام بخاری اور امام مسلم کے ہاں 'صحیحین' میں عروہ کے واسطے سے سیدہ زینب بنت ابی سلمہ سے اور وہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے متصل سند کے ساتھ مروی ہے، نیز بعض طرق میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ وہ نمازِ فجر کا وقت تھا اور وہ طوافِ وداع کا موقع تھا۔