المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْمُحْرِمِ باب: حالتِ احرام والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1161
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ فُلَانٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ رَجُلٍ يَضَعُ ثَوْبَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَتُصِيبُهُ الشَّمْسُ حَتَّى تَغْرُبَ إِلَّا غَرُبَتْ بِخَطَايَاهُ .ترجمہ
سیدنا فلاں (ایک صحابی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایسا کوئی بھی شخص نہیں ہے جو حالتِ احرام میں (دھوپ کی تپش سہنے کی خاطر) اپنی چادر ہٹا دیتا ہے اور سورج اسے تپاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ غروب ہو جائے، مگر یہ کہ اس کے گناہ بھی سورج کے ڈوبنے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں۔“