❮
❯
حدیث نمبر: 1108
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مُسْلِمٍ ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ كَهْمَسٍ الْهِلَالِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ، وَفِيهِ قَالَ كَهْمَسٌ : إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِإِسْلَامِي ، ثُمَّ غِبْتُ عَنْهُ حَوْلًا ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ كَأَنَّكَ تَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : أَجَلْ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَفْطَرْتُ مُنْذُ فَارَقْتُكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ ؟ صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ ، قُلْتُ : زِدْنِي ، قَالَ : صُمْ يَوْمَيْنِ . قُلْتُ : زِدْنِي ، قَالَ : صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ .
ترجمہ

سیدنا کہمس ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ ایک طویل حدیث بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اپنے اسلام لانے کی خبر دی، پھر میں ایک سال تک آپ ﷺ سے دور رہا، اس کے بعد دوبارہ حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مجھے پہچان لیا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں“، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! جب سے میں آپ سے جدا ہوا ہوں میں نے کبھی افطار نہیں کیا (یعنی مسلسل روزے رکھے ہیں)، اس پر رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں اپنی جان کو اس طرح عذاب میں ڈالنے کا حکم کس نے دیا تھا؟ تم مہینے میں ایک دن کا روزہ رکھا کرو“، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے اس میں کچھ اضافہ فرما دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر دو دن کے روزے رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کی: میرے لیے مزید اضافہ فرما دیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کرو“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1108
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 4589»