المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْفِطْرِ فِي السَّفَرِ وَصِحَّةِ صَوْمِ مَنْ صَامَ فِيهِ باب: سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت اور روزہ رکھنے کی صحت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1045
قَالَ : وَحَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُبَادِرًا لِلْفِتْنَةِ أَنْ تَقَعَ فِي الْمَدِينَةِ فِي رَمَضَانَ ، فَأَفْطَرَ ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَدْخُلُ فِيهَا ، يَعْنِي مَكَّةَ ، أَصْبَحَ صَائِمًا .ترجمہ
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رمضان المبارک کے مہینے میں مدینہ منورہ میں کسی فتنے کے برپا ہونے کے اندیشے سے (بچنے کے لیے) وہاں سے مکہ کی طرف تیزی سے روانہ ہوئے، تو آپ نے (دورانِ سفر شرعی رخصت کے پیشِ نظر) روزہ افطار کر لیا، پھر جس رات آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے والے تھے، اس کی اگلی صبح آپ نے روزے کی حالت میں کی یعنی آپ روزے سے تھے۔