المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْكُحْلِ لَا يُفْطِرُ الصَّائِمَ باب: سرمہ لگانے سے روزہ نہ ٹوٹنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
1033 وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : انْتَظَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا فِي رَمَضَانَ ، فَخَرَجَ مِنْ بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَدْ كَحَّلَتْهُ وَمَلَأَتْ عَيْنَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُحْلًا .حارث بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یحییٰ بن اسحاق نے حدیث بیان کی، انہیں سعید بن زید نے، انہوں نے عمرو بن خالد سے، انہوں نے محمد بن علی سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا کے واسطے سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔
نیز حبیب بن ابی ثابت نے نافع کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے بیان فرمایا کہ میں رمضان کے مہینے میں نبی کریم ﷺ کے ہمارے پاس باہر تشریف لانے کا انتظار کر رہا تھا، تو آپ ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے جبکہ انہوں نے آپ ﷺ کی آنکھوں میں سرمہ لگایا ہوا تھا اور آپ ﷺ کی دونوں چشمانِ مبارک سرمے سے بھری ہوئی تھیں۔