المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ عَلَى التَّرَاخِي باب: رمضان کے قضا روزوں میں تاخیر کی اجازت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ ، قَالَ : فَمَا أَدْرِي مَا كَانَتِ الْمُرَاجَعَةُ فِيمَا بَيْنَهُمَا ، فَأَمَرَهُ بِقَضَاءِ رَمَضَانَ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ ، قَالَ : وَلَا تَقُلْ إِنَّ أَبَاكَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا اسود بن قیس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ذوالحجہ کے ابتدائی دس ایام میں رمضان کے قضا روزے رکھنے کے متعلق دریافت کیا، راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے ان دونوں کے درمیان ہونے والے مکمل مکالمے کا علم نہیں ہو سکا، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں رمضان کی قضا کرنے کا حکم دیا، اور اسود کے والد نے (اپنے بیٹے سے) کہا کہ تم یہ نہ کہنا کہ تمہارے والد نے یہ بات خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بالمشافہ سنی ہے۔
اس اثر سے ثابت ہوتا ہے کہ ذوالحجہ کے مبارک ایام میں رمضان کی قضا کرنا جائز ہے تاکہ ان ایام کی برکات حاصل ہو سکیں اور نیکی کے کام میں تاخیر نہ ہو۔