المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ مِنْهُ وَفِيهِ السُّنَّةُ فِي تَعْجِيلِ الْفِطْرِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْوِصَالِ باب: افطار میں جلدی کرنے کی سنت اور وصال کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1028
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ [أَبِي] عَيَّاشٍ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ ، وَلَا وِصَالَ فِي الصِّيَامِ ، وَلَا تَعَرُّبَ بَعْدَ الْهِجْرَةِ ، وَلَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ ... الْحَدِيثَ . [2] وَرَوَاهُ أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أُخْبِرْتُ عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ ، بِهِ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دن بھر رات تک کا روزہِ سکوت (بطورِ عبادت مکمل خاموشی اختیار کرنا) جائز نہیں، نہ ہی روزوں میں وصال (بغیر سحری و افطاری کے مسلسل کئی دن کا روزہ رکھنا) درست ہے، ہجرت کرنے کے بعد دوبارہ دیہاتی و بدوی زندگی کی طرف پلٹ جانا روا نہیں، اور فتحِ مکہ کے بعد اب (وہاں سے مدینہ کی طرف) ہجرت کی فرضیت باقی نہیں رہی۔“
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جبکہ ابو قرہ نے اسے ابن جریج کے واسطے سے حرام بن عثمان سے بھی نقل کیا ہے۔